Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کئی احباب ہیں جن سے تعارف تک نہیں ہے

سحر بلرام پوری

کئی احباب ہیں جن سے تعارف تک نہیں ہے

سحر بلرام پوری

MORE BYسحر بلرام پوری

    کئی احباب ہیں جن سے تعارف تک نہیں ہے

    مگر گفتار میں بوئے تکلف تک نہیں ہے

    وہ میری ملکیت ہے اور میں بے دست و پا ہوں

    کسی بھی چیز پر میرا تصرف تک نہیں ہے

    مجھے معلوم ہے وہ بے وفا ہے اور پھر بھی

    اسے دل میں بسانے پر تاسف تک نہیں ہے

    خوشی یہ ہے کہ اس کے ہونٹ مرہم کے لئے ہیں

    اگرچہ زخم دینے میں تلطف تک نہیں ہے

    وصال و ہجر کی تفہیم ایسی ہے کہ جیسے

    حیات و موت میں باہم ترادف تک نہیں ہے

    عجب حیوانیت کا رقص کرتے بھیڑیے ہیں

    کسی کی جان لینے میں توقف تک نہیں ہے

    ہزاروں مشکلیں در پیش رہتی ہیں سحرؔ کو

    زباں پر باوجود اس بات کے اف تک نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے