کئی احباب ہیں جن سے تعارف تک نہیں ہے
کئی احباب ہیں جن سے تعارف تک نہیں ہے
مگر گفتار میں بوئے تکلف تک نہیں ہے
وہ میری ملکیت ہے اور میں بے دست و پا ہوں
کسی بھی چیز پر میرا تصرف تک نہیں ہے
مجھے معلوم ہے وہ بے وفا ہے اور پھر بھی
اسے دل میں بسانے پر تاسف تک نہیں ہے
خوشی یہ ہے کہ اس کے ہونٹ مرہم کے لئے ہیں
اگرچہ زخم دینے میں تلطف تک نہیں ہے
وصال و ہجر کی تفہیم ایسی ہے کہ جیسے
حیات و موت میں باہم ترادف تک نہیں ہے
عجب حیوانیت کا رقص کرتے بھیڑیے ہیں
کسی کی جان لینے میں توقف تک نہیں ہے
ہزاروں مشکلیں در پیش رہتی ہیں سحرؔ کو
زباں پر باوجود اس بات کے اف تک نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.