دو چار دن کی مہلت ہے ساتھ کاٹنے کی
دو چار دن کی مہلت ہے ساتھ کاٹنے کی
ہیں دن گزارنے کے اور رات کاٹنے کی
جینے کو ہر کسی کو یہ زندگی ملی ہے
ہم کو ملی ہے ساتوں کی سات کاٹنے کی
تم عمر کاٹنے کی جس گھر میں سوچتی ہو
ہم کو لگی ہے اس میں برسات کاٹنے کی
روکا گیا ہے دونوں کو ہاتھ تھامنے سے
سو آ گئی ہے نوبت اب ہاتھ کاٹنے کی
کیوں کاٹتا نہیں ہے وہ اب مری لکیریں
عادت ہے ہرشؔ جس کی ہر بات کاٹنے کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.