آشنا بھی آپ کا ناآشنا ہو جائے گا
آشنا بھی آپ کا ناآشنا ہو جائے گا
بے بسی کی شب میں ہر سایہ جدا ہو جائے گا
گر یوں ہی خاموشیوں کی مصلحت چلتی رہی
اور کچھ لمبا ستم کا سلسلہ ہو جائے گا
دوسروں کے غم کو اپنا غم بنا لیں ہم اگر
دوستو پھر درد ہی اک دن دوا ہو جائے گا
یوں ہی گر آلودگی اس شہر کی بڑھتی رہی
سانس بھی لینا یہاں اک مسئلہ ہو جائے گا
ذکر اپنے درد کا اعجازؔ مت کرنا کبھی
حال غم کہتے ہی تیرا غم سوا ہو جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.