اک پھول تازہ ہاتھ میں لے کر گلاب کا
اک پھول تازہ ہاتھ میں لے کر گلاب کا
اندازہ کر رہا ہوں گزشتہ شباب کا
کیوں بدلیوں میں چھپتا ہے رہ رہ کے آفتاب
شاید کھلا ہے بند کسی کے نقاب کا
زرخیز کیوں نہ بارش باراں سے ہو زمیں
اک ایک قطرہ دانہ ہے در خوش آب کا
کہتے ہیں آسماں کو خمستان دہر میں
الٹا ہوا ہے ایک پیالہ شراب کا
مشکل ہے اب دکانوں میں سستی ملے شراب
ٹوٹا ہے تقویٰ شیخ فضیلت مآب کا
کب تک رہے گا مے کشو احساس کمتری
پیر مغاں سے چھین لو مٹکا شراب کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.