Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک پھول تازہ ہاتھ میں لے کر گلاب کا

بسمل سنسہاروی گیاوی

اک پھول تازہ ہاتھ میں لے کر گلاب کا

بسمل سنسہاروی گیاوی

MORE BYبسمل سنسہاروی گیاوی

    اک پھول تازہ ہاتھ میں لے کر گلاب کا

    اندازہ کر رہا ہوں گزشتہ شباب کا

    کیوں بدلیوں میں چھپتا ہے رہ رہ کے آفتاب

    شاید کھلا ہے بند کسی کے نقاب کا

    زرخیز کیوں نہ بارش باراں سے ہو زمیں

    اک ایک قطرہ دانہ ہے در خوش آب کا

    کہتے ہیں آسماں کو خمستان دہر میں

    الٹا ہوا ہے ایک پیالہ شراب کا

    مشکل ہے اب دکانوں میں سستی ملے شراب

    ٹوٹا ہے تقویٰ شیخ فضیلت مآب کا

    کب تک رہے گا مے کشو احساس کمتری

    پیر مغاں سے چھین لو مٹکا شراب کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے