ترک مدعا کر دے عین مدعا ہو جا
ترک مدعا کر دے عین مدعا ہو جا
شان عبد پیدا کر مظہر خدا ہو جا
اس کی راہ میں مٹ کر بے نیاز خلقت بن
حسن پر فدا ہو کر حسن کی ادا ہو جا
برگ گل کے دامن پر رنگ بن کے جمنا کیا
اس فضائے گلشن میں موجۂ صبا ہو جا
آدمی نہیں سنتا آدمی کی باتوں کو
پیکر عمل بن کر غیب کی صدا ہو جا
قطرۂ تنک مایہ بحر بے کراں ہے تو
اپنی ابتدا ہو کر اپنی انتہا ہو جا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.