Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں جس قدر ہوں آج ترے آستاں سے دور

اقبال صفی پوری

میں جس قدر ہوں آج ترے آستاں سے دور

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    میں جس قدر ہوں آج ترے آستاں سے دور

    شاید زمیں بھی اتنی نہ ہو آسماں سے دور

    ایسے بھی ہوں گے جن کو ترا قرب ہے نصیب

    اک ہم کہ تجھ سے دور ترے آستاں سے دور

    اتنا قریب وہ کہ رگ جاں سے بھی قریب

    یا دور اس قدر کہ خیال و گماں سے دور

    اب جاؤں بھی تو جاؤں کدھر میں شکستہ دل

    گھر بھی یہاں سے دور وہ در بھی یہاں سے دور

    مقسوم جب ہو جلنا تو پھر فرق کچھ نہیں

    آگ اپنے آشیاں میں ہو یا آشیاں سے دور

    کیسی رتیں گزاریں کہ یہ بھی نہیں کھلا

    ہم دور ہیں بہار سے یا ہیں خزاں سے دور

    ہیں ذوق بندگی میں کہاں تک لطافتیں

    دیکھوں تو سجدہ کرکے ترے آستاں سے دور

    اقبالؔ دل عجب ہے تمناؤں کا دیار

    اتنے دیے مکاں میں اجالا مکاں سے دور

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے