Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بہت حسیں ہے یہ پہلو بھی بے رخی کی طرح

شاعر لکھنوی

بہت حسیں ہے یہ پہلو بھی بے رخی کی طرح

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    بہت حسیں ہے یہ پہلو بھی بے رخی کی طرح

    کبھی کبھی جو وہ ملتے ہیں اجنبی کی طرح

    گئے تھے دیکھنے ان کو مگر نہ دیکھ سکے

    گزر گئے وہ نگاہوں سے روشنی کی طرح

    ہم آج تک نہ یہ سمجھے کہ التفات ان کا

    اجل کی طرح حسیں ہے کہ زندگی کی طرح

    اس اک ادائے محبت پہ زندگی صدقے

    گریز ہم سے ہے لیکن سپردگی کی طرح

    ادائے جور کی یکسانیت کو کیا کہیے

    ستا رہا ہے زمانہ بھی آپ ہی کی طرح

    کدھر نہ جائیں کدھر جائیں رہروان سحر

    چمک رہا ہے اندھیرا بھی روشنی کی طرح

    بہت بلند ہے محلوں سے خانۂ مفلس

    یہاں تو دھوپ بھی آتی ہے چاندنی کی طرح

    یہ کم نہیں ہے کہ بخشا ہے اس نے اے شاعرؔ

    وہ التفات کہ نازک ہے برہمی کی طرح

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے