تو ہوا کس کے انتظار میں گم
تو ہوا کس کے انتظار میں گم
ایک دنیا ہے تیرے پیار میں گم
کس صفائی سے کر دیا کس نے
آشیاں ہی بھری بہار میں گم
دے گئے ہم کو کاروبار ذوق
خود ہوئے ذوق کاروبار میں گم
جو زمانے کے راہبر تھے انہیں
کر دیا تو نے اعتبار میں گم
اپنی چھوڑو کہو زمانے کی
بات یوں کر دی اختصار میں گم
بے قراری میں کھو گئی منزل
اور رہبر رہا قرار میں گم
کل ہوا میکدے میں گم میکش
آج مے خانہ میگسار میں گم
آج وہ لوگ ہیں کہاں واصفؔ
جو ہوئے تیری رہ گذار میں گم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.