عجب سلسلہ یہ عذابوں کا ہے
عجب سلسلہ یہ عذابوں کا ہے
کہ طوفان سا دل میں سانسوں کا ہے
پکاریں کسے کس کو آواز دیں
یہ سیلاب تو گونگے بہروں کا ہے
چلو چل کے اب جنگلوں میں رہیں
کہ شہروں میں اب قحط خوابوں کا ہے
نکالیں تحفظ کی گنجائشیں
کہ موسم نئی نت بلاؤں کا ہے
کرے کیا پریشان ہے آئنہ
کہ منظر یہاں مسخ چہروں کا ہے
بہت آگ بھڑکی تھی امید کی
بہت درد خوابوں کے زخموں کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.