زندان احتیاط سے اٹھ کر چلے کہاں
زندان احتیاط سے اٹھ کر چلے کہاں
کس طرح کہہ سکو گے کہ صادقؔ لٹے کہاں
سمٹا ہے جب سے دامن آرائش خیال
نقش و نگار شوق کے وہ سلسلے کہاں
طے کی ہیں گردباد کی مانند منزلیں
شعلہ فشاں تھا دشت وفا بیٹھتے کہاں
جب بھی کہیں چھڑی ثمر آرزو کی بات
یاد آ گیا مجھے مرے بازو کٹے کہاں
یہ سوچ کر کچھ اور بھی چمکے ہیں زخم شوق
ناوک فگن کو ضد تھی کہ دیکھوں لگے کہاں
گزرا کوئی صبا کی طرح پاس سے مگر
اب دید باز گشت کے بھی حوصلے کہاں
اب ان کی یاد سے بھی نہ اپنی خبر ملے
موج ہوائے شوق بتا آ گئے کہاں
صبح ازل کا نور تھی اس بزم کی فضا
ہم روشناس ظلمت شب بھی ہوئے کہاں
ایک ایک موج ریگ میں چمکے جبین دوست
دشت طلب میں کوئی رکے تو رکے کہاں
زاد نجات و حشر کے منکر نہیں مگر
اکثر یہ سوچتے ہیں کہ لائے گئے کہاں
دونوں جہان گوش بر آواز ہیں نسیمؔ
خانہ-خراب آج ترے لب سلے کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.