حبس جہاں کو خلد کی آب و ہوا ملی
حبس جہاں کو خلد کی آب و ہوا ملی
ہم کو پرانی دوست اچانک سے آ ملی
ویسے تو ہر حسینہ ہے اپنی مثال آپ
لیکن ہمارے والی کو جدت جدا ملی
دنیا تھی بے امان جہالت کا دور تھا
آئے جناب غازی ردا کو ردا ملی
دست ابد کو چوم کے مرنے لگے تھے ہم
جینا پڑا کہ وہ ہمیں بن کر خدا ملی
کاشفؔ ہمارا جینا طمانچہ ہے موت پر
دھوکا ہے زندگی جو بطور سزا ملی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.