اجالا مجھ سے رسوا ہو گیا ہے
اجالا مجھ سے رسوا ہو گیا ہے
اندھیرا میرے اندر جی رہا ہے
گلے کس کے لگوں اب میں کہ مجھ سے
جدا ہے کوئی تو کوئی خفا ہے
ہر اک غم کو سما لوں گا میں خود میں
سمندر دکھ کا گہرا ہو گیا ہے
ہمیں تو دل لگی صحرا سے ہے پر
ہمارا نام پانی پر لکھا ہے
گلوں کو پاس اب مت لے کے آؤ
ہمارے اندروں کانٹا بھرا ہے
کروں گا خاک اپنی زندگی کو
یہ میں نے موت سے وعدہ کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.