رات لیتی ہے روشنی کو نگل
رات لیتی ہے روشنی کو نگل
آج اپنے دئے چھپا کے چل
کل جو تھی رہ گزار موسم گل
اب وہاں سوکھتی ہے ہریاول
دھوپ ہے اور زندگی کا سفر
عرصۂ دہر بے شجر چٹیل
وہی فرہاد و وعدۂ شیریں
وہی خسرو ہے اور راج محل
زندگی ہے کہ خشک سی ٹہنی
پات جس پر کہیں نہ پھول نہ پھل
جس کے دامن سے ہن برستا ہو
ہم تک آیا نہ ایک بھی بادل
اپنے پاؤں دھنسے ہیں دلدل میں
دور جلتے ہیں ورنہ اب بھی کنول
کھا رہا ہے ہمیں حیات کا گھن
کل بھی بے کل تھے آج بھی بے کل
لب تک آیا تو بن گیا زہراب
سوم رس تھا کوئی کہ گنگا جل
ایک شب کی ہے بات سو بھی فرازؔ
تیری پلکیں ہیں نیند سے بوجھل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.