کام اتنا تو کر گیا سورج
کام اتنا تو کر گیا سورج
میرے سر سے گزر گیا سورج
سامنے اس قدر اندھیرا ہے
ڈھونڈھتا ہوں کدھر گیا سورج
آگ برسا رہا تھا بستی میں
شام ہوتے ہی مر گیا سورج
شب کے سارے طلسم ٹوٹ گئے
ڈوب کے پھر ابھر گیا سورج
ہاتھ آتے نہ یہ حسیں لمحے
وہ تو کہئے ٹھہر گیا سورج
چھپ گیا بادلوں کی جھرمٹ میں
میرے سائے سے ڈر گیا سورج
وہ اجالا کسی کو کیا دے گا
جس کے حصے کا مر گیا سورج
تو جوانی پہ ناز کرتا ہے
دیکھ چڑھ کر اتر گیا سورج
ہم کناروں میں کھو گئے مضطرؔ
جھیل کو پار کر گیا سورج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.