ادھر غرور کے دیپک ادھر غضب کے چراغ
ادھر غرور کے دیپک ادھر غضب کے چراغ
اندھیرا بانٹ رہے ہیں حسب نسب کے چراغ
چراغ زیست کی کتنی بھی دیکھ بھال کرو
ہوائے موت بجھا ڈالتی ہے سب کے چراغ
سلام ان کو جو اس دور بد تمیزی میں
جلا کے رکھے ہوئے ہیں ابھی ادب کے چراغ
سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے
لہٰذا بھولنے والے ہیں لوگ شب کے چراغ
تمام شہر پہ چھائی ہوئی ہے خود غرضی
محبتوں کے تو گل ہو چکے ہیں کب کے چراغ
مرے دماغ میں جلتا ہے کوئی اور دیا
کسی کے دل میں ہیں روشن مری طلب کے چراغ
کہ اب سکوت کی ظلمت بہت ہوئی کاشفؔ
چلو کہ کھول ہی دیتے ہیں آج لب کے چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.