ہیں تو سورج پہ اندھیرے میں پڑے ہیں ہم لوگ
ہیں تو سورج پہ اندھیرے میں پڑے ہیں ہم لوگ
آپ اپنی ہی نگاہوں سے چھپے ہیں ہم لوگ
خود کشی کرنے کی خواہش تو نہیں ہے لیکن
کیا کریں ریل کی پٹری پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
ایسا لگتا ہے کہ اب وقت کے گلدانوں میں
کاغذی پھولوں کے مانند سجے ہیں ہم لوگ
غیر ممکن ہے کہ تنکے کا سہارا مل جائے
ایک اک قطرے میں اب ڈوب رہے ہیں ہم لوگ
اپنے ہونٹوں پہ ہے لکھا ہوا صحرا صحرا
لطف یہ ہے کہ سمندر سے چلے ہیں ہم لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.