کہاں کہاں پہ لٹے ہو شمار مت کرنا
کہاں کہاں پہ لٹے ہو شمار مت کرنا
مگر کسی پہ بھی اب اعتبار مت کرنا
ہماری راہ میں کلیاں نہیں ہیں کانٹے ہیں
ہماری راہ کبھی اختیار مت کرنا
بہت ہی قیمتی ہے یہ ترے بدن کا لباس
کسی غریب کے بچے کو پیار مت کرنا
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر
سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
شراب خانے کا رستہ بھی چھوٹ جائے گا
شراب خانے میں ساحلؔ ادھار مت کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.