ہمارے پاس فلک سے جواز جنگ نہیں
ہمارے پاس فلک سے جواز جنگ نہیں
کہ یہ زمین ابھی ہم پہ اتنی تنگ نہیں
بکھر رہے ہیں ستارے مرے خیال کے ساتھ
مرے جنوں کا مگر آسماں پہ رنگ نہیں
سر مژہ کوئی گوہر چمک اٹھا شاید
ہزار شکر ابھی آئنے پہ زنگ نہیں
شکار تیر نظر ہوں مجھے خبر ہے یہ
جگر کے پار جو اترے وہی خدنگ نہیں
اٹھائے پھرتے تو ہیں آئنوں کو ہاتھوں میں
مگر یہ لوگ ابھی آشنائے سنگ نہیں
لہو میں کیسی یہ پژمردگی اتر آئی
ہزار سعی کریں پر کوئی ترنگ نہیں
ندیمؔ کون سا حیرت کدہ ہے ان کی طلب
ہیں کس مزاج کی آنکھیں کہ اب بھی دنگ نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.