آسمانوں سے اتر کر رہ گئے
آسمانوں سے اتر کر رہ گئے
آدمی تھے ہم بکھر کر رہ گئے
ٹوٹ کر جب ایک آئینہ گرا
کتنے ہی چہرے اتر کر رہ گئے
کھیلنے دے گی نہ اب پاگل ہوا
تاش کے پتے بکھر کر رہ گئے
دھوپ میں دیوار ننگی ہو گئی
رنگ تھے کچے اتر کر رہ گئے
میں وہ نقطہ ہوں کہ جس کو دیکھ کر
دائرے ٹوٹے بکھر کر رہ گئے
دوپہر جب سب تمازت پی گئی
شام کے منظر نکھر کر رہ گئے
ظلمتوں سے خوف کھاتے تھے کبھی
روشنی میں آج ڈر کر رہ گئے
ان کی قسمیں ان کے وعدے اے علیؔ
جیسے موسم تھے گزر کر رہ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.