Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آسمانوں سے اتر کر رہ گئے

ایم علی

آسمانوں سے اتر کر رہ گئے

ایم علی

MORE BYایم علی

    آسمانوں سے اتر کر رہ گئے

    آدمی تھے ہم بکھر کر رہ گئے

    ٹوٹ کر جب ایک آئینہ گرا

    کتنے ہی چہرے اتر کر رہ گئے

    کھیلنے دے گی نہ اب پاگل ہوا

    تاش کے پتے بکھر کر رہ گئے

    دھوپ میں دیوار ننگی ہو گئی

    رنگ تھے کچے اتر کر رہ گئے

    میں وہ نقطہ ہوں کہ جس کو دیکھ کر

    دائرے ٹوٹے بکھر کر رہ گئے

    دوپہر جب سب تمازت پی گئی

    شام کے منظر نکھر کر رہ گئے

    ظلمتوں سے خوف کھاتے تھے کبھی

    روشنی میں آج ڈر کر رہ گئے

    ان کی قسمیں ان کے وعدے اے علیؔ

    جیسے موسم تھے گزر کر رہ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے