Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا

ماہ نور رانا

آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا

ماہ نور رانا

MORE BYماہ نور رانا

    آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا

    اور اگر بھر لے تو پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا

    پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا

    خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا

    واقعہ دہرا رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں

    اس سمے راقم بھی اپنا آپ دہراتا ہے کیا

    یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر

    ان کا سہرا بھی مرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا

    فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے

    کیا بتائیں اب تمہیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا

    میں تو تجھ کو روز چمکاتا ہوں میرے آئنے

    تو بتا تو میرے خال و خد کو چمکاتا ہے کیا

    وقت کا پہیہ ذرا الٹا گھما لے اور بس

    یہ ذہانت کی صدی ہے دوست پچھتاتا ہے کیا

    نو عروسان غزل چھانیں ترے قدموں کی خاک

    کیوں سرائے صوت سے تو لفظ بھجواتا ہے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے