آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا
آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا
اور اگر بھر لے تو پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا
پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا
خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا
واقعہ دہرا رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں
اس سمے راقم بھی اپنا آپ دہراتا ہے کیا
یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر
ان کا سہرا بھی مرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا
فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے
کیا بتائیں اب تمہیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا
میں تو تجھ کو روز چمکاتا ہوں میرے آئنے
تو بتا تو میرے خال و خد کو چمکاتا ہے کیا
وقت کا پہیہ ذرا الٹا گھما لے اور بس
یہ ذہانت کی صدی ہے دوست پچھتاتا ہے کیا
نو عروسان غزل چھانیں ترے قدموں کی خاک
کیوں سرائے صوت سے تو لفظ بھجواتا ہے کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.