Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سوز غم سے کس قدر شکوہ سرا ہوتے ہیں لوگ

اقبال صفی پوری

سوز غم سے کس قدر شکوہ سرا ہوتے ہیں لوگ

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    سوز غم سے کس قدر شکوہ سرا ہوتے ہیں لوگ

    جل بجھیں اور لب نہ کھولیں وہ بھی کیا ہوتے ہیں لوگ

    فصل گل میں ساتھ ہیں خوشبوئے دامن کی طرح

    رت بدلتی ہے تو بس موج ہوا ہوتے ہیں لوگ

    لوگ کتنا ہی چھپائیں صورت حالات کو

    صورت حالات کا خود آئنہ ہوتے ہیں لوگ

    بند کر دیتے ہیں جو اوروں پہ آزادی کی راہ

    خود وہ اپنے ہی لیے زنجیر پا ہوتے ہیں لوگ

    یوں تو کہنے کو ہیں اہل غم کے صدہا غم گسار

    جن پہ غم گزرے وہی غم آشنا ہوتے ہیں لوگ

    اس ادا کا کیا ٹھکانہ اس روش کا کیا جواب

    بات رنجش کی نہ ہو پھر بھی خفا ہوتے ہیں لوگ

    کس کو برہم کیجیے الزام کس کو دیجیے

    نام کس کا لیجیے سب بے وفا ہوتے ہیں لوگ

    ہم گنہ گاروں پہ الزام گنہ گاری بجا

    پارساؤں میں بھی کتنے پارسا ہوتے ہیں لوگ

    گھر گئے اقبالؔ تم رنگیں قباؤں میں کہاں

    مل کے دیکھو ان سے جو سادہ قبا ہوتے ہیں لوگ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے