سوز غم سے کس قدر شکوہ سرا ہوتے ہیں لوگ
سوز غم سے کس قدر شکوہ سرا ہوتے ہیں لوگ
جل بجھیں اور لب نہ کھولیں وہ بھی کیا ہوتے ہیں لوگ
فصل گل میں ساتھ ہیں خوشبوئے دامن کی طرح
رت بدلتی ہے تو بس موج ہوا ہوتے ہیں لوگ
لوگ کتنا ہی چھپائیں صورت حالات کو
صورت حالات کا خود آئنہ ہوتے ہیں لوگ
بند کر دیتے ہیں جو اوروں پہ آزادی کی راہ
خود وہ اپنے ہی لیے زنجیر پا ہوتے ہیں لوگ
یوں تو کہنے کو ہیں اہل غم کے صدہا غم گسار
جن پہ غم گزرے وہی غم آشنا ہوتے ہیں لوگ
اس ادا کا کیا ٹھکانہ اس روش کا کیا جواب
بات رنجش کی نہ ہو پھر بھی خفا ہوتے ہیں لوگ
کس کو برہم کیجیے الزام کس کو دیجیے
نام کس کا لیجیے سب بے وفا ہوتے ہیں لوگ
ہم گنہ گاروں پہ الزام گنہ گاری بجا
پارساؤں میں بھی کتنے پارسا ہوتے ہیں لوگ
گھر گئے اقبالؔ تم رنگیں قباؤں میں کہاں
مل کے دیکھو ان سے جو سادہ قبا ہوتے ہیں لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.