میں فقیری کو زیب تن کر کے
میں فقیری کو زیب تن کر کے
گھر سے نکلا بڑے جتن کر کے
سارا دربار کر دیا برخاست
تاجور نے شکن شکن کر کے
کب ہوائیں کسی سے رکتی ہیں
کیا ملے گا جلا وطن کر کے
کوئے جاناں سے ہم گزرتے ہیں
اپنی آنکھوں کو بے وطن کر کے
تم ہو ملت کی آبرو مومنؔ
باندھو دستار کو کفن کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.