ان پہ خود عاشق ہے ناصح اور ہمیں سمجھائے ہے
ان پہ خود عاشق ہے ناصح اور ہمیں سمجھائے ہے
بس یہی باتیں ہیں جن سے آگ سی لگ جائے ہے
پاؤں کیوں پٹخے ہے اتنے کیوں مجھے دہلائے ہے
کون ہے جو میری جانب سے تجھے بھڑکائے ہے
چیٹ کی ونڈو میں وہ سب سے کرے ہے گفتگو
ہم جب آویں ہیں دریچہ چھوڑ کر ہٹ جائے ہے
بات بے بات اس کو کچھ چڑنے کی عادت سی بھی ہے
کچھ چڑانے میں اسے ہم کو مزہ بھی آئے ہے
دشمن جانی ہے وہ یہ میں بھی جانوں ہوں مگر
جب نظر آوے ہے ظالم اک غزل ہو جائے ہے
چپ رہے ہے دیکھ کر وہ اضطراب دل مرا
مسکرا دیوے ہے بس سو دل بھی دھوکا کھائے ہے
اک نظر لے تو بھی ناصح دیکھ لے تصویر یار
پھر ذرا دیکھوں تجھے بھی کس طرح چین آئے ہے
کیجیے اقرار الفت دیکھ کر ضامنؔ کا حال
اک دفعہ ہاں کہہ دیا تھا آج تک پچھتائے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.