دل کسی سے کہ جب پلٹتا ہے
دل کسی سے کہ جب پلٹتا ہے
دین و دنیا سے جی اچٹتا ہے
گل ہے عاشق ترا قسم مت کھا
یوں گریباں کسی کا پھٹتا ہے
غنچہ سمٹے تو سمٹے ممکن ہے
دل جو بکھرے تو کب سمٹتا ہے
عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف
دل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہے
ناصحو دل دیا ہے میں اپنا
کچھ تمہارا بھی اس میں بٹتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.