یوں بھی ہو سامنے اک پھول سا چہرہ ہووے
یوں بھی ہو سامنے اک پھول سا چہرہ ہووے
ہر گھڑی یار اسی بات پہ چرچا ہووے
ہاں اگر چاہ لے تو میرا مسیحا ہووے
زخم بھر جائے مرے دل کا مداوا ہووے
باغ میں جب کبھی آئے وہ برائے تفریح
چار سو پیڑ ہوں اور پیڑ کا سایہ ہووے
چاند بھی رشک کرے جس کی ضیا باری پر
کاش محبوب مرا کوئی تو ایسا ہووے
زندگی بھر کے لئے ایک نشانی مل جائے
زخم احباب اگر دیں تو وہ گہرا ہووے
جس کو میں یاد کروں وہ ہو مقابل میرے
کاش ایسا بھی کسی دن مرے مولا ہووے
حق کی خاطر تو زباں کھولنی ہوگی عدنانؔ
یہ الگ بات ہے تیکھا ترا لہجہ ہووے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.