رنج وہ کیا سبب رنج فراواں ہو جا
رنج وہ کیا سبب رنج فراواں ہو جا
حسرت وصل شریک غم ہجراں ہو جا
آدمیت سے غم ہجر کا قصہ سن لے
اے پری زاد ذرا دیر کو انساں ہو جا
خیر اقرار ستم اپنی زباں سے نہ سہی
اپنے دل میں تو ستم گار پشیماں ہو جا
رحم کر رحم اب اے بے سر و سامانیٔ عشق
تو ہی دم بھر کے لئے موت کا ساماں ہو جا
واہ کیا داد ملی ان سے پریشانی کی
ہنس کے کہتے ہیں ذرا اور پریشاں ہو جا
جان سے اپنی گزرتا ہے مریض فرقت
اب تو دم بھر کے لئے جان کے خواہاں ہو جا
راہ پر وہ بت کافر تو نہ آئے گا قمرؔ
خیر اے مرد خدا تو ہی مسلماں ہو جا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.