قریے کوچے بام دریچے جھانکتے چہرے دل میں
قریے کوچے بام دریچے جھانکتے چہرے دل میں
گزرے سموں کے سب ہنگامے سب سناٹے دل میں
ایک نظر دیکھو تو سہی یہ کالی سرد گپھا بھی
فانی وقت نے کیا لافانی نقش ابھارے دل میں
لمحۂ قرب کہ ساعت فرقت اپنا ایک ہی عالم
لب نا واقف حرف تمنا لاکھ تقاضے دل میں
اک اک نا آسودہ خواہش ایک لپکتا شعلہ
نا آسودہ آرزؤں کا دوزخ اپنے دل میں
اپنے وجود سے باہر خیر و شر کا وجود نہیں ہے
جذبوں کی آویزش کوئی جھانک کے دیکھے دل میں
بجھتی شام کے سرخ سمندر میں پھر سورج ڈوبا
پھر پھیلے سوچوں کے سنہرے سانولے سائے دل میں
دل وہ دشت بشیرؔ کہ دور سے دیکھو تو اک دریا
پاس آؤ تو ہر سو پیاسی ریت کے ٹیلے دل میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.