جنوں چاہیے حوصلہ چاہیے ہے
جنوں چاہیے حوصلہ چاہیے ہے
اگر عشق میں مرتبہ چاہیے ہے
نہ الجھا کریں وہ مرے مسئلوں میں
جنہیں اپنے سر کی بقا چاہیے ہے
طبیب دل زار کو بھی خبر ہو
مجھے اب مکمل شفا چاہیے ہے
کہاں تک چلوں میں خرد کے سہارے
جنوں کی مجھے انتہا چاہیے ہے
صبا اس کے پیچھے چلو تم خدا را
مجھے اس کے گھر کا پتہ چاہیے ہے
مٹانا ہے خود کو تری جستجو میں
ترے عشق میں اب فنا چاہیے ہے
تصور میں تیرے الجھتا رہوں میں
مجھے اب یہی سلسلہ چاہیے ہے
کوئی پوچھے مجھ سے مری آرزو بھی
مجھے بس ترا نقش پا چاہیے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.