دل کو کسی بھی چیز کی اب جستجو نہیں
دل کو کسی بھی چیز کی اب جستجو نہیں
جینے کی اس دیار میں اب آرزو نہیں
خون جگر کو پی کے یہ دنیا نے کہہ دیا
پانی ہے بس تمہاری رگوں میں لہو نہیں
خوشبو جو ہے بسی ہوئی زلفوں میں آپ کی
ایسی تو اس جہاں میں کہیں رنگ و بو نہیں
دل پھٹ گیا ہے اس طرح اس دو جہان سے
ایسا ہوا ہے زخم کہ ممکن رفو نہیں
دیکھا جو مشکلات نے مجھ کو تو یہ کہا
بس تم ہو اور کوئی مرے روبرو نہیں
دانشؔ بھٹک رہے ہو یہاں میر کی طرح
اس شہر لکھنؤ میں کوئی آبرو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.