چلی ہے آرزوئے دل شکستہ پا ابھی ٹھہرو
چلی ہے آرزوئے دل شکستہ پا ابھی ٹھہرو
نکل آئیں گے عنوان جنوں آسا ابھی ٹھہرو
ابھی ٹھہرو کہ ہم ارض یقیں پر خوش گماں آباد
ذرا برباد ہو جائیں خرد مندا ابھی ٹھہرو
فلک سے گفتگو کرنے کے موسم لوٹ آئیں گے
خزاں پرور زمانہ گل کھلائے گا ابھی ٹھہرو
نظر خیرہ ہوئی فانوس حیرت کی شعاعوں سے
خرد ساکت قدم زنجیر ہیں گویا ابھی ٹھہرو
قصائص کی فصیلوں میں حقیقت قید ہے لیکن
لگا ہے جا بجا افسانوی پہرہ ابھی ٹھہرو
تغیر عین فطرت ہے مگر مجبور ہوں اے دل
گرفتار تخیل ہے کوئی لمحہ ابھی ٹھہرو
جہاں عجلت برتنی تھی وہاں تاخیر کی سلمانؔ
ابد کا فاصلہ ہے اب تو کچھ عرصہ ابھی ٹھہرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.