اس کے دل میں پیار کی بھی جوت جلنی چاہیئے
اس کے دل میں پیار کی بھی جوت جلنی چاہیئے
وہ جو اک پتھر کی مورت ہے پگھلنی چاہیئے
ایسی مشکل آ پڑی ہے جس سے دم گھٹنے لگا
کچھ بھی ہو کیسے بھی ہو مشکل یہ ٹلنی چاہیئے
تھک گیا سورج بہت دن بھر کی بھاگم بھاگ سے
رات تھی ہمدرد بولی شام ڈھلنی چاہیئے
درد آنسو بھوک سے جو ہو گئے بے کل یہاں
زندگی ان کی سکوں سے بھی تو چلنی چاہیئے
باز کا پنجہ لیے بیٹھے ہوئے ہیں گھات میں
چال چڑیوں کو بھی اپنی اب بدلنی چاہیئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.