کسی کے ہجر میں سینے کے غم کہاں جاتے
کسی کے ہجر میں سینے کے غم کہاں جاتے
جو دل میں درد نہ ہوتا تو ہم کہاں جاتے
نہ شوق زیست ہی رہتا نہ جستجو کوئی
تو پھر بتاؤ کہ اہل کرم کہاں جاتے
نہ یاد ہوتی نہ کوئی امید اس دل کو
نہ ہوتے وصل کے وعدے تو ہم کہاں جاتے
یہ کس نے دل کو محبت کا درد بخشا ہے
نہ گرتے اشک تو ہم چشم نم کہاں جاتے
نہ کوئی خواب بکھرتا نہ دل میں غم ہوتا
نہ ہوتا عشق تو پھر اہل غم کہاں جاتے
یہ درد ہی تو ہمیں آئنہ دکھاتا ہے
نہ ہوتے ہم تو یہ اہل ستم کہاں جاتے
مرے سفال نے رکھی ہے آبرو وارثؔ
وگرنہ ڈھونڈنے ہم جام جم کہاں جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.