کب سے میرے یار سنبھالے بیٹھے ہیں
کب سے میرے یار سنبھالے بیٹھے ہیں
دل میں تیرا پیار سنبھالے بیٹھے ہیں
ایک خبر کل آئی تیرے آنے کی
اب تک وہ اخبار سنبھالے بیٹھے ہیں
برسوں پہلے ہم نے تم کو دیکھا تھا
دل میں وہ دیدار سنبھالے بیٹھے ہیں
جن شعروں میں ذکر ہوا تھا کل تیرا
ہم وہ سب اشعار سنبھالے بیٹھے ہیں
کر دیتے انکار جو ملنا تھا مشکل
کب سے ہم اقرار سنبھالے بیٹھے ہیں
غم یادیں آنسو تنہائی خط تیرے
زخموں کا انبار سنبھالے بیٹھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.