اگر پہلو میں تیرے ہم نہ ہوں گے
اگر پہلو میں تیرے ہم نہ ہوں گے
تو دل کے فاصلے پھر کم نہ ہوں گے
جو آنسو پھول کی آنکھوں سے نکلے
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے
یہ کیسا احترام دوستی ہے
تری محفل میں بس اک ہم نہ ہوں گے
چراغوں کو بجھا کر کیا کرو گے
دلوں کے داغ تو مدھم نہ ہوں گے
کبھی سوچا نہ تھا ایسا بھی ہوگا
جدا ہو کر کبھی باہم نہ ہوں گے
تمہارا شہر چھوڑے جا رہے ہیں
مگر چرچے ہمارے کم نہ ہوں گے
اگر خط میں نہ ہوگا سوز الفت
تو کاغذ آنسوؤں سے نم نہ ہوں گے
ہزاروں تہمتیں مجھ پر لگا دو
مرے احباب لیکن کم نہ ہوں گے
ستارے ہم سفر بھی ہو گئے تو
مرے ہمدم مرے محرم نہ ہوں گے
اگرچہ آئنہ پر گرد ہوگی
مگر جلوے ترے مدھم نہ ہوں گے
وہ جاتے ہیں فقط اس انجمن میں
جہاں وہ جانتے ہیں ہم نہ ہوں گے
بغیر ان کے تقیؔ کا فیصلہ ہے
کوئی محفل ہو اس میں ہم نہ ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.