Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اگر پہلو میں تیرے ہم نہ ہوں گے

تقی عابدی

اگر پہلو میں تیرے ہم نہ ہوں گے

تقی عابدی

MORE BYتقی عابدی

    اگر پہلو میں تیرے ہم نہ ہوں گے

    تو دل کے فاصلے پھر کم نہ ہوں گے

    جو آنسو پھول کی آنکھوں سے نکلے

    شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے

    یہ کیسا احترام دوستی ہے

    تری محفل میں بس اک ہم نہ ہوں گے

    چراغوں کو بجھا کر کیا کرو گے

    دلوں کے داغ تو مدھم نہ ہوں گے

    کبھی سوچا نہ تھا ایسا بھی ہوگا

    جدا ہو کر کبھی باہم نہ ہوں گے

    تمہارا شہر چھوڑے جا رہے ہیں

    مگر چرچے ہمارے کم نہ ہوں گے

    اگر خط میں نہ ہوگا سوز الفت

    تو کاغذ آنسوؤں سے نم نہ ہوں گے

    ہزاروں تہمتیں مجھ پر لگا دو

    مرے احباب لیکن کم نہ ہوں گے

    ستارے ہم سفر بھی ہو گئے تو

    مرے ہمدم مرے محرم نہ ہوں گے

    اگرچہ آئنہ پر گرد ہوگی

    مگر جلوے ترے مدھم نہ ہوں گے

    وہ جاتے ہیں فقط اس انجمن میں

    جہاں وہ جانتے ہیں ہم نہ ہوں گے

    بغیر ان کے تقیؔ کا فیصلہ ہے

    کوئی محفل ہو اس میں ہم نہ ہوں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے