آنسوؤں کے نگر بناتے ہیں
آنسوؤں کے نگر بناتے ہیں
لوگ پانی پہ گھر بناتے ہیں
چاند سے گھر کو دیکھنے کے لیے
آؤ کاغذ کے پر بناتے ہیں
پہلے مہماں بناتے ہیں اپنا
دل کو پھر در بدر بناتے ہیں
اس نے بھنوروں کے دل بنائے ہیں
ہم بھی کلیوں کے ڈر بناتے ہیں
لوگ کچے گھروندے بچپن میں
جانے کیا سوچ کر بناتے ہیں
راستے ہم سے یوں لپٹتے ہیں
جیسے ہم ہی سفر بناتے ہیں
لوگ اظہرؔ اندھیر نگری میں
جانے کیوں بام و در بناتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.