Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بہار اپنا دست کرم جب بڑھائے

اقبال صفی پوری

بہار اپنا دست کرم جب بڑھائے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    بہار اپنا دست کرم جب بڑھائے

    نہ جانے مجھے کیوں خزاں یاد آئے

    کہاں تک کوئی راز الفت چھپائے

    جو آہوں کو روکا تو آنسو بھر آئے

    کچھ ایسے مقام محبت بھی آئے

    کہ دل رو دیا اور ہم مسکرائے

    نہ پوچھ ایک اشک محبت کا ماتم

    ستارے بڑی دیر تک جھلملائے

    محبت کی نیرنگیاں توبہ توبہ

    کوئی اشک پی لے کوئی مسکرائے

    رہ عشق کے پیچ و خم اللہ اللہ

    یہ جی چاہتا ہے کہ منزل نہ آئے

    ان آنکھوں کی مستی کا عالم نہ پوچھو

    تصور سے اکثر قدم لڑکھڑائے

    بڑی چیز ہے اس کی گم کردہ راہی

    جو منزل پہ ہو اور منزل نہ پائے

    گئیں ان کے جلووں کے ہمراہ نظریں

    سمٹتے گئے دھوپ کے ساتھ سائے

    تری رہ گزر میں مسافر تو کیا ہیں

    یہاں زندگی راستہ بھول جائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے