بہار اپنا دست کرم جب بڑھائے
بہار اپنا دست کرم جب بڑھائے
نہ جانے مجھے کیوں خزاں یاد آئے
کہاں تک کوئی راز الفت چھپائے
جو آہوں کو روکا تو آنسو بھر آئے
کچھ ایسے مقام محبت بھی آئے
کہ دل رو دیا اور ہم مسکرائے
نہ پوچھ ایک اشک محبت کا ماتم
ستارے بڑی دیر تک جھلملائے
محبت کی نیرنگیاں توبہ توبہ
کوئی اشک پی لے کوئی مسکرائے
رہ عشق کے پیچ و خم اللہ اللہ
یہ جی چاہتا ہے کہ منزل نہ آئے
ان آنکھوں کی مستی کا عالم نہ پوچھو
تصور سے اکثر قدم لڑکھڑائے
بڑی چیز ہے اس کی گم کردہ راہی
جو منزل پہ ہو اور منزل نہ پائے
گئیں ان کے جلووں کے ہمراہ نظریں
سمٹتے گئے دھوپ کے ساتھ سائے
تری رہ گزر میں مسافر تو کیا ہیں
یہاں زندگی راستہ بھول جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.