Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو راہبر کی تلاش ہے

ساحر لدھیانوی

نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو راہبر کی تلاش ہے

ساحر لدھیانوی

MORE BYساحر لدھیانوی

    دلچسپ معلومات

    “نہ تو کارواں کی تلاش ہے” معروف نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا لکھا ہوا ایک مقبول گیت ہے۔ اس گیت کو 1960 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم “برسات کی رات” میں قوالی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کی دھن روشن نے ترتیب دی، جبکہ منا ڈے، آشا بھوسلے، سدھا ملہوترا، ایس ڈی باتش اور محمد رفیع نے اپنی آوازیں دیں۔ بعد میں اس گیت کے مکھڑے کو 2026 میں آئی فلم “دھورندھر” میں بھی استعمال کیا گیا۔

    نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو راہبر کی تلاش ہے

    میرے شوق خانہ خراب کو تیری رہگزر کی تلاش ہے

    میرے نامراد جنون کا ہے علاج کوئی تو موت ہے

    جو دوا کے نام پہ زہر دے اسی چارہ گر کی تلاش ہے

    تیرا عشق ہے میری آرزو تیرا عشق ہے میری آبرو

    تیرا عشق میں کیسے چھوڑ دوں میری عمر بھر کی تلاش ہے

    دل عشق جسم عشق ہے اور جان عشق ہے

    ایمان کی جو پوچھو تو ایمان عشق ہے

    تیرا عشق میں کیسے چھوڑ دوں میری عمر بھر کی تلاش ہے

    وحشت دل رسن و دار سے روکی نہ گئی

    کسی خنجر کسی تلوار سے روکی نہ گئی

    عشق مجنوں کی وہ آواز ہے جس کے آگے

    کوئی لیلا کسی دیوار سے روکی نہ گئی

    یہ عشق عشق ہے

    وہ ہنس کے اگر مانگے تو ہم جان بھی دے دیں

    یہ جان تو کیا چیز ہیں ایمان بھی دے دیں

    عشق آزاد ہے ہندو نہ مسلمان ہے عشق

    آپ ہی دھرم ہے آپ ہی ایمان ہے عشق

    جس سے آگاہ نہیں شیخ و برہمن دونوں

    اس حقیقت کا گرجتا ہوا اعلان ہے عشق

    عشق نہ پوچھے دین دھرم نوں عشق نہ پوچھے ذاتاں

    عشق دے ہتھوں گرم لہو وچ ڈوبیاں لکھ براتاں

    یہ عشق عشق ہے

    جب جب کرشن کی بنسی باجی نکلی رادھا گھر سے

    جان انجان کا بھید بھلا کے لوک لاج کو تج کے

    بن بن ڈولی جنک دلاری پہن کے پریم کی مالا

    درشن جل کی پیاسی میرا پی گئی وش کا پیالا

    یہ عشق عشق ہے

    اللہ اور رسول کا فرمان عشق ہے

    یعنی حدیث عشق ہے قرآن عشق ہے

    گوتم کا اور مسیحا کا ارمان عشق ہے

    یہ کائنات عشق ہے اور جان عشق ہے

    عشق سرمد عشق ہی منصور ہے

    عشق موسیٰ عشق کوہ نور ہے

    خاک کو بت اور بت کو دیوتا کرتا ہے عشق

    انتہا یہ ہے کہ بندے کو خدا کرتا ہے عشق

    یہ عشق عشق ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    منا ڈے

    منا ڈے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے