Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نام سے گاندھی کے چڑھ ہے بیر آزادی سے ہے

ظفر کمالی

نام سے گاندھی کے چڑھ ہے بیر آزادی سے ہے

ظفر کمالی

MORE BYظفر کمالی

    نام سے گاندھی کے چڑھ ہے بیر آزادی سے ہے

    نفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہے

    عالموں کا علم سے وہ ربط ہے اس دور میں

    ربط دھوبی کے گدھے کا جس طرح لادی سے ہے

    خواب غفلت سے وہی نسبت ہے میری قوم کو

    عاشقوں کا جو تعلق دل کی بربادی سے ہے

    شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ

    رابطہ ان کا بھی کیا کشمیر کی وادی سے ہے

    دیکھنا ہے اب یہی دیتا ہے کس کو کون مات

    سامنا جنتا کا پھر کرسی کے فریادی سے ہے

    جیسے صیادوں کو صیادی سے رہتی ہے غرض

    کام استادوں کو ویسے اپنی استادی سے ہے

    باپ دادا کے ہی نسخے میں ہے اپنی بھی شفا

    ہم کو دیرینہ تعلق خانہ دامادی سے ہے

    شرم سے ہوتا نہیں ہے واسطہ بے شرم کو

    جو مخنث ہو اسے کیا واسطہ شادی سے ہے

    دوستوں کی دوستی دیکھی ہے جب سے اے ظفرؔ

    عشق ویرانے سے ہے تو وحشت آبادی سے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے