میں آ رہا تھا ستاروں پہ پاؤں دھرتے ہوئے
میں آ رہا تھا ستاروں پہ پاؤں دھرتے ہوئے
بدن اتار دیا خاک سے گزرتے ہوئے
جمال مجھ پہ یے اک دن میں تو نہیں آیا
ہزار آئنے ٹوٹے مرے سنورتے ہوئے
عجب نظر سے چراغوں کی سمت دیکھا ہے
ہوا نے زینۂ پندار سے اترتے ہوئے
اک آدھ جام تو پی ہی لیا تھا ہم نے بھی
خمار خانۂ دنیا کی سیر کرتے ہوئے
اب آسمان بھی کم پڑ رہے ہیں میرے لیے
قدم زمین پہ رکھا تھا میں نے ڈرتے ہوئے
وہی ستارہ ستاروں كا حکمراں ٹھہرا
لرز رہا تھا جو پہلی زقند بھرتے ہوئے
میں کائنات سے باہر نکل گیا یک دم
عجیب نشہ تھا پہلی اڑان بھرتے ہوئے
جہاں جہاں بھی مجھے راستے میں رات آئی
میں اک چراغ جلاتا گیا گزرتے ہوئے
میں آئینہ تھا مگر آئنہ کمال کا تھا
ہزار عکس بناتا گیا بکھرتے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.