کیوں در بدر پھروں مری قسمت میں کیا نہیں
کیوں در بدر پھروں مری قسمت میں کیا نہیں
بت آشنا نہیں ہے مرا یا خدا نہیں
اک بار اور میری عیادت کو آئیے
اچھی طرح سے میں ابھی اچھا ہوا نہیں
میں خوب جانتا ہوں لگاوٹ کو آپ کی
آنکھیں تو مل رہی ہیں مگر دل ملا نہیں
آنکھیں لڑی ہوئی ہیں گلوں کی بہار پر
نرگس کی ٹکٹکی کو کوئی دیکھتا نہیں
دن کاٹنے کو خوب تو ہے دل لگی کی راہ
اچھا ہے جی لگا جو کسی سے برا نہیں
ڈرتا ہے روز حشر کی سختی سے کس لیے
کیا تو طبیب خادم خیرالوریٰ نہیں
- Author :راحت ابرار
- مطبع : راحت ابرار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.