آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں
کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں
جس پر پڑے پھر اس کو خدا ہی پناہ دے
تیغ نگاہ یار کی پیدا سپر نہیں
مشہور خلق عیسیٰ دوراں تو ہو مگر
لیکن مریض عشق کی جانب نظر نہیں
اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز
اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں
سرد سہی جو کہتے ہیں شاعر تمہیں بجا
بے شک نہال عیش ہو لیکن ثمر نہیں
کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو
وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں
کیا جانیں کیسی جوڑ جمائی رقیب نے
ایسے خفا ہیں بولتے دو دوپہر نہیں
رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک
حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.