Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

حیرت الہ آبادی

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

حیرت الہ آبادی

MORE BYحیرت الہ آبادی

    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

    سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

    آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں

    کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں

    جس پر پڑے پھر اس کو خدا ہی پناہ دے

    تیغ نگاہ یار کی پیدا سپر نہیں

    مشہور خلق عیسیٰ دوراں تو ہو مگر

    لیکن مریض عشق کی جانب نظر نہیں

    اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز

    اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں

    سرد سہی جو کہتے ہیں شاعر تمہیں بجا

    بے شک نہال عیش ہو لیکن ثمر نہیں

    کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو

    وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں

    کیا جانیں کیسی جوڑ جمائی رقیب نے

    ایسے خفا ہیں بولتے دو دوپہر نہیں

    رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک

    حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں نعمان شوق

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے