منٹو کا ادبی مقام: چونکانے کا فن
منٹو نے اردو افسانے میں ایک نئی راہ متعین کی اور قاری کو چونکا کر معاشرے کی مردہ ضمیری کو جھنجھوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
آپ شہر میں خوبصورت اور نفیس گاڑیاں دیکھتے ہیں۔۔۔ یہ خوبصورت اور نفیس گاڑیاں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے کام نہیں آ سکتیں۔ گندگی اور غلاظت اٹھا کر باہر پھینکنے کے لئے اور گاڑیاں موجود ہیں جنہیں آپ کم دیکھتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں تو فوراً اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں۔۔۔ ان گاڑیوں کا وجود ضروری ہے اور ان عورتوں کا وجود بھی ضروری ہے جو آپ کی غلاظت اٹھاتی ہیں۔ اگر یہ عورتیں نہ ہوتیں تو ہمارے سب گلی کوچے مردوں کی غلیظ حرکات سے بھرے ہوتے۔
زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیئے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔۔۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔
منٹو نے اردو افسانے میں ایک نئی راہ متعین کی اور قاری کو چونکا کر معاشرے کی مردہ ضمیری کو جھنجھوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔
منٹو کی اصل ہنر مندی اس کی سادہ کاری اور بے ساختگی میں ہے۔ اس نے عقلیت پسندی اور نظریاتی وابستگی کو مسترد کر دیا تاکہ اس کی تخلیقی انانیت اور تخیل زندہ رہ سکے۔