آیا بت_مے_خانہ اور گھر سے لیا مجھ کو
آیا بت مے خانہ اور گھر سے لیا مجھ کو
کر دے گا مجھے تازہ دکھلا کے بہار نو
لہرا کے علم اپنا پر کر کے کماں اپنی
رکھا ہے نشانے پر رہزن نے مرے مجھ کو
سو نکتے اٹھاتا ہے سو جال بچھاتا ہے
سو مہرے بڑھاتا ہے تا کھا لے وہیں مجھ کو
اس سرو کا سایہ بن کر قد کا طواف اس کے
گو جڑ سے اکھاڑے گا وہ مثل شجر مجھ کو
پھر آیا وہ پھر آیا وہ عمر دراز آیا
وہ خوبیٔ ناز آیا تا داغ کرے مجھ کو
وہ جان جہاں آیا وہ گنج نہاں آیا
وہ فخر شہاں آیا تا فاش کرے مجھ کو
یوں برج حمل میں ہے شمس الحق تبریزی
فطرت کے شجر پر وہ تا پختہ کرے مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.