نہیں کہ بات مری در_خور_شنود نہیں
نہیں کہ بات مری در خور شنود نہیں
یہ وہ سحر ہے جو شرمندۂ نمود نہیں
نوادرات گہر کیا کہ اب تو پلکوں پر
کہاں کے اشک نم اشک کا وجود نہیں
ہیں اب شکست سلاسل سے خوش نہ ہم نہ غزال
انہیں خرام تو ہم کو سر سرود نہیں
فروغ جام سے کسب نشاط کون کرے
کہ اب دماغ ہی کچھ خوگر کشود نہیں
صدا سنی تو ہیولیٰ ترا تراش لیا
مذاق دید اب احساں کش ورود نہیں
حجاب مجھ سے بھلا کیا کہ اب نگاہ مری
فریب خوردۂ نیرنگیٔ شہود نہیں
نہایت اس کی گریباں سے چاک جاں تک ہے
جنوں کو معرفت حفظ تار و پود نہیں
ہزار جبر مسلسل سے اشک اشک سہی
اڑی اڑی مری صورت برنگ دود نہیں
وہ دور جام چلا رات بھر کہ ساقی کا
کسی بھی رند کو آج انتظار جود نہیں
غم حبیب میں کھو کر ہی رہ نہ جا غالبؔ
طریق عشق میں گنجائش جمود نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.