Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب میں بہت ہی چھوٹا تھا

یہودا امیخائی

جب میں بہت ہی چھوٹا تھا

یہودا امیخائی

MORE BYیہودا امیخائی

    جب میں بہت ہی چھوٹا تھا

    مستول اور گھاس ساحل سمندر پر کھڑے ہوئے تھے

    اور میں وہاں لیٹ جاتا تھا

    اور قیاس کرتا کہ وہ سب ایک جیسے ہیں

    کیوں کہ وہ آسمان کی جانب بڑھ رہے ہیں مجھ سے سر بلند

    صرف میری ماں کے لفظ ہی میرے ساتھ تھے

    جیسے سینڈوچ کی سرسراہٹ مومی کاغذ میں لپٹی ہوئی

    اور مجھے پتہ نہ تھا میرا باپ کب واپس آئے گا

    کیوں کہ وہاں ایک اور جنگل تھا آلودگیوں سے پرے

    ہر شے بس ایک ہاتھ لمبی تھی

    ایک سانڈ نے اپنے سینگوں سے سورج کو لہولہان کیا

    اور گلیوں کی راتوں کی روشنی ہی چمکارتی رہی

    میرے رخسار فصیل شہر کے ہم راہ

    اور وہ مہتاب

    جیسے ایک بڑی صراحی جھکی ہوئی

    اور میری پیاسی نیند کو سیراب کرتی ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے