جب میں بہت ہی چھوٹا تھا
جب میں بہت ہی چھوٹا تھا
مستول اور گھاس ساحل سمندر پر کھڑے ہوئے تھے
اور میں وہاں لیٹ جاتا تھا
اور قیاس کرتا کہ وہ سب ایک جیسے ہیں
کیوں کہ وہ آسمان کی جانب بڑھ رہے ہیں مجھ سے سر بلند
صرف میری ماں کے لفظ ہی میرے ساتھ تھے
جیسے سینڈوچ کی سرسراہٹ مومی کاغذ میں لپٹی ہوئی
اور مجھے پتہ نہ تھا میرا باپ کب واپس آئے گا
کیوں کہ وہاں ایک اور جنگل تھا آلودگیوں سے پرے
ہر شے بس ایک ہاتھ لمبی تھی
ایک سانڈ نے اپنے سینگوں سے سورج کو لہولہان کیا
اور گلیوں کی راتوں کی روشنی ہی چمکارتی رہی
میرے رخسار فصیل شہر کے ہم راہ
اور وہ مہتاب
جیسے ایک بڑی صراحی جھکی ہوئی
اور میری پیاسی نیند کو سیراب کرتی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.