محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ
کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا
-
موضوع : استاد
کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
اگر بارش کا ذرا سا چھینٹا بھی پڑ جائے تو داغؔ فوراً کلکتے روانہ ہو جائیں گے۔
عظیم آباد میں ہم ساون کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
اس شعر میں بارش کا معمولی سا چھینٹا بھی ایک اشارہ بن جاتا ہے کہ اب سفر کر لیا جائے۔ ساون کا انتظار دراصل دل کی آس، راحت اور تبدیلی کے انتظار کی علامت ہے۔ شاعر کی بے قراری ایسی ہے کہ وہ بڑی بارش نہیں، صرف پہلی جھلک پر حرکت میں آ جاتا ہے۔ جگہوں کا فاصلہ اندر کی تڑپ اور خواہشِ وصل/قرار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
خواب آنسو احتجاجی زندگی
پوچھیے مت شہر کلکتہ ہے کیا
سسکتی آرزو کا درد ہوں فٹ پاتھ جیسا ہوں
کہ مجھ میں چھٹپٹاتا شہر کلکتہ بھی رہتا ہے
سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے
گنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے
لا مکاں ہے واسطے ان کی مقام بود و باش
گو بظاہر کہنے کو کلکتہ اور لاہور ہے
کلکتہ جو رہتے تھے
گاؤں والے ہنستے تھے
کلکتہ میں ہر دم ہے منیرؔ آپ کو وحشت
ہر کوٹھی میں ہر بنگلے میں جنگلا نظر آیا