Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کلکتہ پر اشعار

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ

کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

منیر شکوہ آبادی

کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں

عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

اگر بارش کا ذرا سا چھینٹا بھی پڑ جائے تو داغؔ فوراً کلکتے روانہ ہو جائیں گے۔

عظیم آباد میں ہم ساون کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

اس شعر میں بارش کا معمولی سا چھینٹا بھی ایک اشارہ بن جاتا ہے کہ اب سفر کر لیا جائے۔ ساون کا انتظار دراصل دل کی آس، راحت اور تبدیلی کے انتظار کی علامت ہے۔ شاعر کی بے قراری ایسی ہے کہ وہ بڑی بارش نہیں، صرف پہلی جھلک پر حرکت میں آ جاتا ہے۔ جگہوں کا فاصلہ اندر کی تڑپ اور خواہشِ وصل/قرار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

داغؔ دہلوی

خواب آنسو احتجاجی زندگی

پوچھیے مت شہر کلکتہ ہے کیا

عنبر شمیم

سسکتی آرزو کا درد ہوں فٹ پاتھ جیسا ہوں

کہ مجھ میں چھٹپٹاتا شہر کلکتہ بھی رہتا ہے

خورشید اکبر

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

گنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے

اختر شیرانی

کلکتہ سے بھی کیجیئے حاصل کوئی تو علم

سیکھیں گے سحر سامری ہم چشم یار سے

عبداللہ خاں مہر لکھنوی

لا مکاں ہے واسطے ان کی مقام بود و باش

گو بظاہر کہنے کو کلکتہ اور لاہور ہے

شاہ آثم

کلکتہ جو رہتے تھے

گاؤں والے ہنستے تھے

ابواللیث جاوید

کلکتہ میں ہر دم ہے منیرؔ آپ کو وحشت

ہر کوٹھی میں ہر بنگلے میں جنگلا نظر آیا

منیر شکوہ آبادی
بولیے