Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خنجر پر اشعار

بل پڑے چتون پہ ابرو تن کے خنجر ہو گئے

ذکر وصل آتے ہی وہ جامے سے باہر ہو گئے

شیر سنگھ ناز دہلوی

جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیا

تمام زخم جگر مسکرائے ہیں کیا کیا

کیفی اعظمی

پرچم امن لیے پھرتا تھا ظاہر میں جو ہاتھ

میں نے اعجازؔ اسی ہاتھ میں خنجر دیکھا

ڈاکٹر اعجاز رسول
بولیے