شاعری کے مطالعے میں 'ذوق' اور 'شعر فہمی' کو اکثر ہم معنی سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن شمس الرحمن فاروقی ان دونوں کے درمیان ایک واضح اور بنیادی فرق قائم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک غیر تنقیدی آلے کے طور پر ذوق انتہائی کارآمد چیز ہے، لیکن تنقیدی آلے کے طور پر یہ بالکل بے کار اور ناقابلِ اعتبار ہے۔ ذوق ہمیں یہ تو بتا سکتا ہے کہ کون سا فن پارہ اچھا ہے اور کون سا برا، لیکن یہ تجزیے کے عمل سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے 'کیوں' اور 'کیسے' کا جواب دینے سے قاصر رہتا ہے۔
اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے فاروقی صاحب علامہ اقبال کے دو ہم مفہوم اشعار کی مثال پیش کرتے ہیں۔ پہلا شعر فارسی کا ہے:
در دشت جنون من جبریل زبوں صیدے
یزداں بکمند آور اے ہمت مردانہ
اور دوسرا شعر اردو کا مشہور زمانہ شعر ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ہمارا ذوق فوراً یہ فیصلہ کرتا ہے کہ موضوع کی یکسانیت کے باوجود فارسی شعر اردو شعر سے بہت زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن ذوق یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ خوبصورتی کہاں ہے اور کیوں ہے۔ یہیں سے 'شعر فہمی' کا آغاز ہوتا ہے۔ شعر فہمی ایک تنقیدی عمل ہے جو ذوق کے پیدا کردہ ردعمل کے بعد بروئے کار آتا ہے۔ جب ہم شعر فہمی کی منزل سے گزرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ معنی کے اعتبار سے اردو شعر کم تر ہے، اور یوں ذوق کی فراہم کردہ اطلاع کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔
نقاد محض اپنے ذوق پر بھروسہ نہیں کرتا۔ وہ ذوق کو ایک آغازی جگہ ضرور دیتا ہے، لیکن اس ابتدائی آگاہی کو وہ اس وقت تنقیدی فیصلے کی شکل دیتا ہے جب وہ اصولِ نقد کی روشنی میں درست ثابت ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قاری اور نقاد میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔ لہٰذا، شعرفہمی نقاد کے عمل کا وہ حصہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود دو فن پاروں میں معنی کا فرق کس طرح لازم آتا ہے اور ان میں کیا تنقیدی تفاوت موجود ہے۔
