بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی برصغیر کے سیاسی اور سماجی حالات میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان تبدیلیوں کا اثر اردو ادب پر بھی پڑا اور خمریات، جو اب تک تصوف، عشقِ مجازی یا حقیقی مے نوشی تک محدود تھی، ایک نئے اور انقلابی سانچے میں ڈھل گئی۔ جدید دور کے شعراء نے مے خانے کی ویرانی، ساقی کی بے پروائی اور رندوں کی لغزش کے پردے میں زندگی کے تلخ حقائق اور قومی بیداری کے پیغامات دینا شروع کر دیے۔
اس دور میں واعظ اور زاہد پر طنز کا انداز بھی بدل گیا۔ پہلے زاہد کی داڑھی پر پھبتی کسی جاتی تھی، لیکن اب اکبر الہ آبادی، جوش ملیح آبادی اور علامہ اقبال نے زاہد کی ذہنیت اور اس کی رجعت پسندی پر کاری ضربیں لگائیں۔ اقبال زاہد سے اس لیے ناراض تھے کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں رہا اور ملت کی رہنمائی کے فرائض بھول چکا ہے۔ اسی طرح پنڈت برج نارائن چکبست نے بادہ و ساغر کے پردے میں 'نوحۂ قومی' چھیڑا اور آزادی کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا:
ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہے
ساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہے
مئے گل رنگ لٹتی یوں درمیخانہ وا ہوتا
نہ پینے میں کمی ہوتی نہ ساقی سے گلا ہوتا
تاہم، خمریات کے اس پرانے کوچے میں سب سے نیا اور توانا ساز علامہ اقبال نے چھیڑا۔ اقبال نے ساقی اور شراب کی علامتوں کو 'خودی'، 'حرکت و عمل' اور 'انقلاب' کے لیے استعمال کیا۔ بانگِ درا میں وہ ساقی سے محض نشہ نہیں مانگتے، بلکہ گرتی ہوئی قوم کو تھامنے کا مطالبہ کرتے ہیں:
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
اقبال کی انقلابی خمریات کا نقطۂ عروج ان کی شہرہ آفاق نظم 'ساقی نامہ' (بالِ جبریل) ہے۔ اس نظم میں اقبال ساقی سے جو شراب مانگتے ہیں، وہ انگور کی بیٹی نہیں بلکہ سوز و سازِ ازل اور ضمیرِ حیات کو روشن کرنے والی مے ہے۔ وہ اس شراب کے ذریعے نوجوانوں میں عمل کی حرارت اور عشق کی نظر پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ سرمایہ داری اور فرسودہ روایات کے بتوں کو توڑ سکیں:
وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات
وہ مے جس سے ہے مستیِ کائنات
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
اقبال دورِ حاضر کی خرافات اور امت کی زبوں حالی پر نوحہ کناں ہیں اور ساقی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو وہ سوزِ جگر عطا کرے جو انہیں ان کی منزل تک پہنچا سکے۔ ان کی یہ التجا دراصل ایک بیدار قوم کا خواب ہے:
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
مراعشق میری نظر بخش دے
مرے قافلہ میں لٹادے اسے
لٹادے ٹھکانے لگا دے اسے
یوں جدید اردو شاعری میں بادہ و ساغر نے ایک نیا کیف پایا۔ شعراء نے ساقی و مے خانے کے رمز و ایما میں جدید دور کے سنہرے خوابوں اور تلخ حقائق کو اس خوبصورتی سے سمو دیا کہ خمریات محض لذتیت کے بجائے حیاتِ نو کا پیغام بن گئی۔
