عمر انصاری
غزل 8
اشعار 12
مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن
مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہت
دل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہت
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
چھپ کر نہ رہ سکے گا وہ ہم سے کہ اس کو ہم
پہچان لیں گے اس کی کسی اک ادا سے بھی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اٹھا یہ شور وہیں سے صداؤں کا کیوں کر
وہ آدمی تو سنا اپنے گھر میں تنہا تھا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی
ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے